خلیفہ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

0

تحریر: محمد احمد رضا

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔ آپ کا نام عمر، کنیت ابو حفص، لقب فاروق اعظم ہے۔ آپ دراز قد، بھاری جسم، سفید رنگت والے تھے۔ آپ کی داڑھی مبارکہ گھنی اور گھنگریالی تھی۔ آپ عام الفیل کے تیرہ سال بعد پیدا ہوئے۔ یوں آپ کی تاریخ ولادت پانچ سو تیراسی عیسوی ہے۔ آپ اسلام و مسلمین کے دوسرے خلیفہ راشد ہیں۔ آپ کا زمانہ خلافت دس سال پانچ مال اکیس دن ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے دعا فرمائی تھی؛

اللھم اعز الاسلام باحب ھذین الرجلین الیک بابی جھل او بعمر ابن الخطاب (جامع ترمذی؛ کتاب المناقب)

اے اللہ! تو ابو جہل یا عمر بن خطاب دونوں میں سے اپنے ایک پسندیدہ بندے کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا فرما۔

حضور نبی اکرم ﷺ کی دعا سے آپ رضی اللہ عنہ انتالیس مردوں کے بعدنبوت کے چھٹے سال مشرف بہ اسلام ہوئے۔آپ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے پر مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام ہمارے لئے ایک فتح تھی اور ان کی امارت ایک رحمت تھی۔ خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔ پس جب وہ اسلام لائے تو آپ نے مشرکینِ مکہ کا سامنا کیا یہاں تک کہ انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا۔ تب ہم نے خانہ کعبہ میں نماز ادا کی۔ (المعجم الکبیر)

آپ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب پر کئی احادیث موجود ہیں۔ جن میں سے چند ذیل میں پیش کی جاتی ہیں؛

حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا؛ ”لو کان نبی بعدی لکان عمر بن الخطاب“۔ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن الخطاب ہوتا۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب)

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ (یعنی وہ دس صحابہ کرام علیہم الرضوان جن کے قطعی جنتی ہونے کی بشارت دنیا میں دی گئی) میں شامل ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس ایک شخص داخل ہو گا وہ جنتی ہے چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس ایک اور جنتی آنے والا ہے۔ پس اس مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب)

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

اول من یصافحہ الحق عمر اول من تسلیم علیہ و اول من یاخذ بیدہ فیدخلہ الجنۃ۔ (سنن ابن ماجہ، باب فضل عمر)

اللہ تعالیٰ سب سے پہلے جس شخص سے مصافحہ فرمائے گا وہ عمر ہے اور سب سے پہلے جس شخص پر سلام بھیجے گا اور سب سے پہلے جس کا ہاتھ پکڑ کرجنت میں داخل فرمائیے گا وہ عمر ہے۔

امام ہیثمی اپنی کتاب مجمع الزوائد میں حدیث پاک نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عمر بن الخطاب اہلِ جنت کا چراغ ہے۔

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مسلمانوں کو بے شمار فتوحات نصیب ہوئیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے قیصر و کسریٰ سمیت شام، مصر، جزیرہ، عراق، خوزستان، آرمینیہ، آذربائیجان، عجم، کرمان، خراسان، مکران اور فارس کے علاقے فتح کئے۔ آپ نے نظامِ حکومت میں بھی کئی نمایاں تبدیلیاں کیں۔ بیت المال، عدالت، قاضیوں کے عہدے مقرر کئے۔ آپ نے سنِ ہجری کا آغاز کیا جو آج تک جاری ہے۔آپ نے بے شمار فلاحی و اصلاحی احکامات اور اصطلاحات جاری کیں۔

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر خود حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں دے دی تھی۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ احد پہاڑ پر تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان (رضی اللہ عنہم) تھے۔ پہاڑ ہلنے لگا تو حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنا قدم مبارک مارا اور فرمایا:

اثبت احد، فما علیک الا نبی او صدیق او شھیدان۔ (صحیح البخاری، کتاب فضائل الصحابۃ)

اے احد ٹھہر جا، تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔

چھبیس ذی الحج تئیس ہجری کو آپ رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ شدید زخمی ہو گئے۔ چار دن تک موت و حیات کی کشمکش میں رہے۔ جب آخری وقت آیا تو آپ نے اپنے بیٹے حضرت عبد اللہ کو کہا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ عمر آپ کو سلام کہتا ہے۔ سلام کے بعد عرض کرنا، اے ام المؤمنین عمر بن الخطاب آپ سے اجازت مانگتا ہے کہ اسے اپنے دونوں دوستوں کے پاس قبر کی جگہ مل جائے۔ حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا تک جب یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا، وہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی ہوئی تھی لیکن آج میں عمر کو اپنے آپ پر ترجیح دیتی ہوں کہ انہیں اس جگہ دفن کیا جائے۔

جب حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو آپ نے پوچھا کہ کہو کیا جواب لے کر آئے ہو۔ انہوں نے عرض کیا، آپ کی خواہش کے مطابق جواب ملا ہے۔ آپ نے یہ سن کر الحمد للہ کہا اور فرمایا مجھے اس سے زیادہ کسی اور بات کی خواہش نہ تھی۔ پھر فرمایا جب میری روح نکل جائے تو ایک بار پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگنا۔ اگر وہ بخوشی اجازت دے دیں تو مجھے حجرہ اقدس میں دفن کر دینا اور اگر وہ اجازت نہ دیں تو مجھے مسلمانوں کے عام قبرستان میں لے جا کر دفن کرنا۔

یکم محرم الحرام چوبیس ہجری کو آپ نے اپنے بیتے سے کہا کہ میری پیشانی زمین سے لگا دو۔ یعنی سجدے کی سی حالت بنا دو۔ جب آپ کے بیٹے نے آپ کو سجدہ کروایا تو اسی حالت میں آپ کی روح پرواز کر گئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور آپ حجرہ اقدس میں دفن ہوئے۔ 

رمضان المبارک کی عبادتیں

0

 رمضان المبارک کی عبادتیں

تحریر: محمد احمد رضا

عربی زبان میں رمضان کا مادہ (root word) رمض ہے، جس کا معنی سخت گرمی اور تپش ہے۔ رمضان میں چونکہ روزہ دار بھوک اور پیاس کی شدت کو برداشت کرتا ہے اس لئے اسے رمضان کہتے ہيں۔ اس کی دوسری وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ جب عربوں نے مہینوں کے نام رکھے تو اتفاقا رمضان سخت گرمی میں تھا تو انہوں نے موسم کی مناسب سے اس کا نام رمضان رکھ دیا۔

رمضان وہ بابرکت مہینہ ہے کہ اس ماہ مقدس میں اللہ تعالی نے قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ اسی مہینے میں ایک رات ایسی ہے جسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے، اور وہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جس کے بارے میں قرآن کریم میں اللہ کریم نے ارشاد فرمایا:

لیلۃ القدر خیر من الف شھر۔

شب قدر (فضیلت، برکت اور اجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

رمضان المبارک کی فضیلت و عظمت پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث میں بکثرت موجود ہیں۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

اذا دخل رمضان فتحت ابواب الجنۃ و غلقت ابواب جھنم و سلسلت الشیاطین۔

جب رمضان داخل ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہيں اور شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے۔

پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان المبارک سے اتنی محبت فرماتے کہ اکثر رمضان المبارک کے مہینے کو پانے کی دعا فرمایا کرتے۔ روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شعبان کے مہینے سے ہی روزے رکھنے شروع کر دیتے اور ان روزوں کے ساتھ رمضان شریف کا استقبال فرماتے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان المبارک کا بہترین استقبال فرماتے اور صحابہ کرام سے سوالیہ انداز میں دریافت فرماتے کہ:

ما ذا یستقبلکم و تسقبلون؟

کون تمہارا استقبال کر رہا ہے اور تم کس کا استقبال کر رہے ہو؟

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا کوئی وحی نازل ہونے والی ہے؟ میرے آقا  نے فرمایا: نہیں، حضرت عمر نے عرض کیا کہ کسی دشمن سے جنگ ہونے والی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ پھر کیا بات ہے تو پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ان اللہ یغفر فی اول لیلۃ من شھر رمضان لکل اھل القبلۃ

بے شک اللہ تعالی رمضان المبارک کی پہلی رات ہی تمام اہل قبلہ کو معاف فرما دیتا ہے۔

رمضان المبارک میں سرکار دو عالم ﷺ کے معمولات عام حالات سے مختلف ہوتے۔ آپ کی عبادات، ریاضات میں عام دنوں کی نسبت بہت اضافہ ہو جاتا۔ اس مہینے میں اللہ تعالی کی خشیت اور محبت اپنے عروج پر ہوتی۔ اسی شوق میں آپ ﷺ راتوں کا قیام زیادہ فرماتے۔ سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں درج ذیل معمولات رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ کا حصہ ہوتے۔

1.       کثرت عبادت

ام المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیھا فرماتی ہیں کہ:

کان رسول اللہ ﷺ اذا دخل رمضان لغیر لونہ و کثرت صلاتہ، و ابتھل فی الدعاء، و اشفق منہ۔

جب رمضان المبارک شروع ہوتا تو پیارے آقا کریم ﷺ کا رنگ مبارک متغیر ہو جاتا، آپ ﷺ کی نمازوں میں اضافہ ہو جاتا، اللہ تعالی سے گڑگڑا کر دعا کرتے اور اللہ تعالی کا خوف طاری رکھتے۔

2.     رمضان المبارک کے روزے رکھتے۔ (رمضان کے روزے فرائض میں شامل ہيں، نہ رکھنا حرام اور معاذ اللہ انکار کر دینا کفر ہے)۔

رسول اللہ ﷺ نے رمضان المبارک کے روزوں کی فضیلت یوں بیان فرمائی کہ: من صام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ۔ جس نے رمضان کا روزہ ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رکھا اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

3.    رسول اللہ ﷺ کا معمول مبارک تھا کہ آپ روزے کی ابتداء سحری سے اختتام افطاری پر کرتے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: سحری کھایا کرو، کیونکہ سحری ميں برکت ہے۔ حضرت عمرو بن العاص سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق سحری کھانا ہے۔

4.    راتوں کو قیام

رمضان المبارک کی راتوں میں تاجدار کائنات ﷺ کثرت سے قیام فرماتے۔ پیارے آقا کریم ﷺ کا فرمان ہے:

من قام رمضان ایمانا و احتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ۔

جس نے رمضان المبارک میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہيں۔

5.     صدقہ و خیرات کی کثرت

رمضان المبارک میں رسول اللہ ﷺ کثرت سے صدقہ و خیرات فرماتے۔ سید دو عالم ﷺ کی سخاوت کا عالم تو یہ تھا کہ کبھی کوئی سوالی خالی ہاتھ واپس نہ گیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہيں کہ: جب جبرائیل آ جاتے تو آپ  ﷺ بھلائی کرنے میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔

رمضان المبارک میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کثرت سے آتے تو سید دو عالم ﷺ صدقہ و خیرات میں بھی مزید کثرت فرماتے۔ امام نووی فرماتے ہيں کہ اس حدیث مبارکہ سے کچھ فوائد ملتے ہيں؛ مثال کے طور پر

رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کا بیان، رمضان المبارک میں کثرت سے صدقہ و خیرات کے محبوب عمل ہونے کا بیان، نیک بندوں کی ملاقات پر سخاوت میں زیادتی کرنے کا بیان وغیرہ

6.     حضور سید دو عالم ﷺ رمضان المبارک میں اعتکاف فرماتے۔ رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کرنے کا معمول تھا۔ حضرت سیدتنا ام المؤمنین سلام اللہ علیھا فرماتی ہيں کہ: ان النبی ﷺ کان یعتکف العشر الاواخر من رمضان حتی توفاہ اللہ، ثم اعتکف ازواجہ من بعدہ۔

رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک کے آخری دس دن میں اعتکاف فرماتے یہاں تک کہ اللہ کے حکم سے آپ کا وصال ظاہری ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا۔

(اس روایت میں رسول اللہ ﷺ کے وصال ظاہری کے بعد ازواج مطہرات کے اعتکاف کرنے کے الفاظ ہيں، یہ امہات المؤمنین کا عمل تھا، لیکن اگر عورت چاہے تو شوہر کی اجازت سے رمضان المبارک میں اعتکاف بیٹھ سکتی ہے)۔

ان کے علاوہ بھی رمضان المبارک کی بہت سی خصوصیات ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہيں۔

سال بھر کے دیگر مہینوں میں مخصوص دن اور مخصوص ساعتیں عبادت کی ہیں مثلاً محرم کی دسویں تاریخ اپنے اندر زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ رجب میں ستائیسویں شب معراج النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نسبت سے عبادت کی خصوصیت رکھتی ہے۔ شعبان کی پندرھویں شب کی عبادت بھی اپنا ایک مقام رکھتی ہے۔ شوال کی پہلی شب عبادت کے لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے۔ ذوالحجہ میں چار دن نویں سے بارہویں تک ایام تشریق کہلاتے ہیں جن میں تکبیرات کہی جاتی ہیں جبکہ رمضان وہ مہینہ ہے کہ جس کے شب و روز کی ہر ساعت نورِ عبادت سے روشن و منور ہے۔ یوں کہ طلوعِ فجرِ صادق سے غروبِ آفتاب تک روزہ، پھر افطاری، پھر تراویح، پھر وقتِ سحر کی روحانی کیف آور ساعتیں، غرض ہر لمحہ اور ہر ساعت بندہ مومن مصروف عبادت ہے۔

سال کے دیگر مہینوں کی نسبت اس ماہ مقدس میں عبادت، ذکر و اذکار، تقویٰ و طہارت اور نیکی و بندگی کی طرف دل زیادہ راغب ہوتے ہیں اور ایک مسلمان ان ایام میں عبادت کی لذت بھی محسوس کرتا ہے۔

قرآن مجید (جو دنیائے انسانی کی طرف اس کے خالق اور محبوب حقیقی کی طرف سے آخری نامہ محبت ہے)کی تلاوت جس کثرت کے ساتھ ماہ رمضان میں کی جاتی ہے وہ سال کے دیگر ماہ و ایام میں نہیں ہوتی۔ ماہ رمضان کی قدسی صفات ساعتوں میں گناہگار ترین انسان بھی تلاوت قرآن سے اپنے باطن میں روحانی کیف و سرور اور حلاوت پاتا ہے۔

ماہ مقدس رمضان کے شب و روز میں گلشن اسلام میں یوں بہار آجاتی ہے کہ سارا اسلامی معاشرہ ایک ہری بھری کھیتی کی مانند لہلہاتا نظر آتا ہے۔ مساجد آباد ہوجاتی ہیں، نیکی کرنے کے جذبات غالب آجاتے ہیں اور زبانیں ذکر الہٰی اور درود و سلام کی چاشنی و حلاوت سے آشنا ہوتی ہیں۔

عام اسلامی مہینوں کی نسبت اس ماہ مبارک کا ہر بندہ مومن کو انتظار ہوتا ہے۔ وہ ذوق و شوق کے ساتھ اس کے چاند کا انتظار کرتا ہے اور خوشی و مسرت کے ساتھ ایک دوسرے کو مبارک باد دیتا ہے جبکہ اس کے گزر جانے پر مومن صادق اس کے فراق میں آنسو بہاتا اور گریہ و زاری کرتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام مہینے اور دن اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں مگر رمضان کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کو اللہ کا مہینہ قرار دیا ہے۔ فرمایا کہ ’’شعبان میر امہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے‘‘۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس ماہ مبارک میں بالخصوص کثرت کے ساتھ عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ جب رمضان شروع ہوجاتا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنا کمر بند کس لیتے (یعنی عبادت کی کثرت کرتے)، پھر اپنے بستر پر تشریف نہیں لاتے تھے یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولا کریم ہمیں بھی رمضان المبارک کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اللہ کریم تمام امت مسلمہ کو رمضان المبارک کی برکتیں، رحمتيں عطا فرمائے۔ آمین

اللعالمین کے صیغےکی جدید سائنس کی روشنی میں ایک جھلک

0

تحریر: محمد احمد رضا 

 اللعالمین کے صیغےکی جدید سائنس کی روشنی میں ایک جھلک

قرآن کریم کی ہر آیت کی تفسیر قیامت تک کے لئے ہے  اور یہ قرآن پاک  کاحسن اعجاز ہے۔ دنیا ترقی کرتی جائے گی، سائنسز بڑھتی جائيں گی اور قرآن مجید کی آیات انسانی تجربات کی روشنی میں بھی ثابت ہوتی جائيں گی۔ قرآن کریم کی بے شمار آیات کا ایک پہلو سائنسی بھی ہے۔  اللہ کریم نے قرآن کریم میں اپنے لئے ارشاد فرمایا؛

الحمد للہ رب العالمین۔

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہيں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔

اللہ سبحانہ و تعالی نے یہ ہی کلمہ اپنے محبوب ﷺ کے لئے ارشاد فرمایا؛

و ما ارسلناک الا رحمۃ اللعالمین۔

اور ہم نے آپ کو نہ بھیجا مگر رحمت تمام جہانوں کے لئے۔

محترم قارئین! عربی گرائمر کے اعتبار سے العالمین جمع کا صیغہ ہے اور عربی میں جمع کا اطلاق کم از کم تین پر ہوتا ہے۔ کل جہان کتنے ہيں ہميں نہیں معلوم۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ جتنے بھی جہان ہيں ان سب کا مالک اللہ کریم ہے اور رسول اللہ ﷺ ان تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں۔

دنیا ، جس کائنات میں ہم موجود ہیں یہ ان جہانوں میں سے ایک جہان ہے۔ ایک جہان عالم ارواح کا ہے، ایک قیامت اور بعد کا بھی ہو گا۔ بہرحال دنیا، کائنات، یونیورس ایک جہان ہے۔ ہم اللہ کریم کی شان ربوبیت اور رسول اللہ ﷺ کی شان رحمت کو مکمل طور پر کبھی سمجھ نہیں سکتے۔ لیکن سائنس کی روشنی میں صرف اس ایک جہان کو دیکھتے  ہیں جس میں ہم موجود ہیں۔ امید ہے اس سے شان ربوبیت اور شان رسالت کی کچھ معرفت نصیب ہو گی۔ ان شاء اللہ۔

اصل بحث کی طرف جانے سے قبل خلا کے فاصلے کو ناپنے کا عمومی فارمولا نوری سال کو مد نظر رکھ لیں۔ نوری سال / light year کی وضاحت یہ ہے کہ روشنی ایک سال میں جس قدر فاصلہ طے کرتی ہے وہ ایک نوری سال کہلاتا ہے۔ اور روشنی کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے سورج کی روشنی زمین پر پہنچنے میں آٹھ منٹ انیس سیکنڈ لگتے ہيں۔ مختصر یہ کہ روشنی ایک سال میں ساٹھ کھرب میل کا فاصلہ طے کرتی ہے۔

قارئين! ہم جس دنیا میں موجود ہيں، اسے سائنس کی روشنی ميں یونیورس کہا جاتا ہے۔ اس یونیورس میں ہم ایک سولر سسٹم کے ایک سیارے جس کا نام زمین ہے، اس پر موجود ہیں۔مندرجہ بالا آیت کو سائنس کی روشنی میں دیکھنے کے لئے کائنات کا مختصر سا تعارف پیش ہے۔ اس کائنات / یونیورس میں ہماری زمین کا ایڈریس اس طرح بنتا ہے؛

The Earth, The Solar System, Orion Arm, The Milky Way, The Local Group, The Virgo Supercluster, The Universe.

زمین، نظام شمسی، اورین آرم، ملکی وے، لوکل گروپ، ورگو سوپر کلسٹر، کائنات۔

قارئین! کائنات میں یہ ہماری زمین کا ایڈریس ہے۔ اس ایڈریس کی کچھ وضاحت کرتا ہوں۔ زمین جس پر ہم موجود ہیں۔ سولر سسٹم یا نظام شمسی؛ نظام شمسی میں کل آٹھ سیارے ہیں۔ ہماری زمین ان سیاروں میں سورج سے تیسرےنمبر پر ہے۔ ہمارا نظام شمسی ہماری کہکشاں کے اوریئن آرم میں واقع ہے۔ اوریئن آرم؛ آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ یہ اوریئن آرم ہماری کہکشاں کے مختلف حصوں میں سے ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس کی لمبائي تقریبا 10 ہزار نوری سال ہے۔ یہ ہماری کہکشاں نہيں بلکہ کہکشاں کے بہت سے بڑے حصوں میں سے ایک چھوٹا سا حصہ اور ایک بازو ہے، اس کے علاوہ ہماری کہکشاں کے مزید حصے یا بازو بھی ہیں۔ یہ اورئین آرم ملکی وے میں موجود ہے،  ملکی وے ہماری کہکشاں ہے۔

ملکی وے؛ یہ ہماری کہکشاں چار چکردار بازوں پر مشتمل ہے۔ اس کہکشاں کا پھیلاؤ یا قطر تقریبا ایک لاکھ نوری سال ہے، جبکہ موٹائی ایک ہزّار نوری سال ہے۔ اور ایک نوری سال ساٹھ کھرب میل پر مشتمل ہوتا ہے۔ تو اندازہ کریں کہ صرف ہماری ایک کہکشاں کس قدر بڑی ہے۔ اندازے کے مطابق ہمارے کہکشاں میں 200 سے 400 ارب ستارے ہیں۔ کہکشاں کے ستارے کہکشاں کے مرکز کے گرد گھومتے ہیں۔ ہمارا سورج 220 کلومیٹر فی سیکنڈ کے رفتار سے ایک چکر 24 کروڑ سال میں پورا کرتا ہے۔ ہمارا سورج زمین سے قریب ترین ستارہ ہے جو ہم سے 8.3 نوری منٹ کے فاصلے پر موجود ہے۔  سورج کے بعد ہماری زمین سے قریب ترین ستارہ پروگزیما سنچری ہے جو ہم سے 4.9 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ اندازہ کریں کہ صرف ہماری کہکشاں میں موجود باقی دو سو سے چار سو کھرب ستاروں کا عالم کیا ہو گا۔

قارئین! ہماری یہ اتنی بڑی کہکشاں لوکل گروپ میں موجود ہے۔ مختصر الفاظ میں لوکل گروپ  کہکشاؤں کا ایک ایسا گروپ ہے جس میں ہماری  کہکشاں (ملکی وے) بھی موجود ہے۔ اس گروہ میں تیس (30) کہکشائيں بتائي جاتی ہیں۔ ان میں بونی (یعنی چھوٹی) کہکشائيں بھی ہيں۔ بونی کہکشاں اس کہکشاں کو کہتے ہیں جس میں صرف چند ارب ستارے ہوتے ہیں ۔ اندازہ کریں کہ کائنات کا وہ حصہ جسے لوکل گروپ کہا جاتا ہے جس میں صرف تیس کہکشائيں موجود ہیں وہ کتنا بڑا ہے۔ انسانی عقل مکمل سمجھنے سے ہی قاصر ہے۔

قارئین! لوکل گروپ ورگو سوپر کلسٹر میں واقع ہے۔ ورگو سوپر کلسٹر کائنات کا وہ حصہ ہے جس میں لوکل گروپ موجود ہے۔ اس میں تقریبا سو کہکشاؤں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس کا حجم ایک کروڑ دس لاکھ نوری سال ہے۔  یہ کائنات کا صرف ایک حصہ ہے۔ مشاہداتی کائنات (observable universe)   یعنی کائنات کا وہ حصہ جسے زمین سے سائنسی ذرائع سے دیکھا جا سکتا ہے اور ابھی تک دیکھا گیا ہے، جس کے بارے میں ہم صرف اتنا سا جانتے ہیں کہ یہ کائنات کا حصہ ہے۔ اس مشاہداتی کائنات میں ورگو سوپر کلسٹر جیسے ایک کروڑ سوپر کلسٹر موجود ہیں۔ یہ ایک کروڑ سوپر کلسٹر کائنات کا وہ حصہ ہے جسے ہم صرف جانتے ہیں۔ باقی کائنات کتنی ہو گی۔ اللہ اعلم

زمین کے مکمل ایڈریس میں آخری چیز کائنات ہے۔ اور کائنات کیا ہے اس کا اندازہ کرنا انسان کے لئے ناممکن ہے۔ آج تک کائنات کا وہ حصہ جس کو ہم صرف دیکھنے کی حد تک جانتے ہیں، جس کی مختصر تفصیل اوپر پیش کی ہے۔ اس کا اندازہ ہی ناممکن ہے۔ اب باقی کائنات کتنی بڑی ہو گی یہ کون جان سکتا ہے۔ بہرحال قرآن کریم میں کائنات کے بارے میں سورۃ فاطر کی پہلی آیت میں ارشاد ہے ؛

يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌo

(اللہ کریم) خلق (یعنی تخلیق) میں جس قدر چاہتا ہے اضافہ فرماتا رہتا ہے، بے شک اللہ ہر شئے پر قادر ہے۔

کائنات کے پھیلنے کے اسی نظریے کو سائنس اس طرح بیان کرتی ہے؛ اس سلسلہ میں ایک نظریہ عظیم دھماکا ( بگ بینگ ) کا ہے۔  یعنی کائنات ایک ماقبل کائنات ایٹم  یا  ماقبل آتشیں گولے کے ایک عظیم دھماکے سے پھٹ جانے سے وجود میں آئی۔ دھماکے سے قدیم مادہ ہر سمت بکھر گیا، وہی کائنات ہے۔ چونکہ دھماکا سے مادہ بکھر گیا تو وہ یقینا  مسلسل پھیل رہا ہے۔ اس نظریے کی طرف بھی قرآن کریم میں اشارہ موجود ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا؛

أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَاo وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّo أَفَلَا يُؤْمِنُونَo

اور کیا  کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ (جملہ کائنات) آسمان اور زمین سب ایک اکائی تھے پھر ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا، اور ہم نے (زمین پر) پیکر حیات کی نمود پانی سے کی، تو کیا وہ (قرآن کے بیان کردہ ان حقائق سے آگاہ ہو کر بھی) ایمان نہيں لاتے۔

مندرجہ بالا بحث بہت مختصر ہے۔کائنات کا اندازہ لگانا کسی اعتبار سے ممکن نہیں ہے۔ اور یہ العالمین میں سے صرف ایک جہان ہے جو ایک چھوٹے سے ذرے کے ایک ایٹم سے شروع ہو کر نجانے کہاں تک پھیل رہا ہے۔

ہم صرف اس مشاہداتی کائنات جس کو ہم دیکھ سکتے ہيں، اسی کا اندازہ نہيں کر سکتے۔ اور پھر یہ ساری کائنات۔ اللہ اکبر۔ اس کائنات کے علاوہ نجانے کیا ہو گا۔ جنت و دوزخ کا عالم کیا ہو گا۔ آسمانوں اور پھر سدرۃ المنتہی، عرش کا عالم کیا ہو گا۔ مندرجہ بالا تو صرف عالم مکاں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، اس کے بعد عالم لامکاں کتنا عظیم ہو گا۔ لامکاں تو انسانی عقل سے ہی ماوری ہے۔

ہم اللہ تعالی کے بیان کردہ العالمین کے ایک کلمہ کو کیا سمجھ سکتے ہيں۔ اللہ کریم کا کرم ہے جسے چاہے جتنی معرفت نصیب فرما دے۔ وہ خود العالمین تمام جہانوں کا مالک ہے اور اس نے اپنے پیارے  محبوب ﷺ کو العالمین کے لئے رحمت بنایا ہے۔ اب کل کتنے عالم ہیں یہ اللہ کریم ہی جانتا ہے۔ لیکن مندرجہ بالا سطور سے ہم اپنی عقل و بساط کے مطابق اللہ کریم کی ربوبیت اور آقا کریم ﷺ کی رحمت کے کسی نقطے کے کسی حصے کو کسی قدر سمجھنے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ مولا کریم ہمیں اپنی اور اپنے پیارے محبوب ﷺ کی معرفت نصیب فرمائے۔ آمین۔

خلیفہ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: محمد احمد رضا حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔ آپ کا نام عمر، کنیت ابو حفص، لقب فاروق اعظم ہے۔ آپ دراز قد، بھاری جسم، سفید رنگت وال...

© 2020 جملہ حقوق بحق راقم محفوظ ہیں

Theme byNoble Knowledge