حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔ آپ کا نام عمر، کنیت ابو حفص، لقب فاروق اعظم ہے۔ آپ دراز قد، بھاری جسم، سفید رنگت والے تھے۔ آپ کی داڑھی مبارکہ گھنی اور گھنگریالی تھی۔ آپ عام الفیل کے تیرہ سال بعد پیدا ہوئے۔ یوں آپ کی تاریخ ولادت پانچ سو تیراسی عیسوی ہے۔ آپ اسلام و مسلمین کے دوسرے خلیفہ راشد ہیں۔ آپ کا زمانہ خلافت دس سال پانچ مال اکیس دن ہے۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے دعا فرمائی تھی؛
اللھم اعز الاسلام باحب ھذین الرجلین الیک بابی جھل او بعمر ابن الخطاب (جامع ترمذی؛ کتاب المناقب)
اے اللہ! تو ابو جہل یا عمر بن خطاب دونوں میں سے اپنے ایک پسندیدہ بندے کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا فرما۔
حضور نبی اکرم ﷺ کی دعا سے آپ رضی اللہ عنہ انتالیس مردوں کے بعدنبوت کے چھٹے سال مشرف بہ اسلام ہوئے۔آپ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے پر مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام ہمارے لئے ایک فتح تھی اور ان کی امارت ایک رحمت تھی۔ خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔ پس جب وہ اسلام لائے تو آپ نے مشرکینِ مکہ کا سامنا کیا یہاں تک کہ انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا۔ تب ہم نے خانہ کعبہ میں نماز ادا کی۔ (المعجم الکبیر)
آپ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب پر کئی احادیث موجود ہیں۔ جن میں سے چند ذیل میں پیش کی جاتی ہیں؛
حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا؛ ”لو کان نبی بعدی لکان عمر بن الخطاب“۔ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن الخطاب ہوتا۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب)
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ (یعنی وہ دس صحابہ کرام علیہم الرضوان جن کے قطعی جنتی ہونے کی بشارت دنیا میں دی گئی) میں شامل ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس ایک شخص داخل ہو گا وہ جنتی ہے چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس ایک اور جنتی آنے والا ہے۔ پس اس مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
اول من یصافحہ الحق عمر اول من تسلیم علیہ و اول من یاخذ بیدہ فیدخلہ الجنۃ۔ (سنن ابن ماجہ، باب فضل عمر)
اللہ تعالیٰ سب سے پہلے جس شخص سے مصافحہ فرمائے گا وہ عمر ہے اور سب سے پہلے جس شخص پر سلام بھیجے گا اور سب سے پہلے جس کا ہاتھ پکڑ کرجنت میں داخل فرمائیے گا وہ عمر ہے۔
امام ہیثمی اپنی کتاب مجمع الزوائد میں حدیث پاک نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عمر بن الخطاب اہلِ جنت کا چراغ ہے۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مسلمانوں کو بے شمار فتوحات نصیب ہوئیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے قیصر و کسریٰ سمیت شام، مصر، جزیرہ، عراق، خوزستان، آرمینیہ، آذربائیجان، عجم، کرمان، خراسان، مکران اور فارس کے علاقے فتح کئے۔ آپ نے نظامِ حکومت میں بھی کئی نمایاں تبدیلیاں کیں۔ بیت المال، عدالت، قاضیوں کے عہدے مقرر کئے۔ آپ نے سنِ ہجری کا آغاز کیا جو آج تک جاری ہے۔آپ نے بے شمار فلاحی و اصلاحی احکامات اور اصطلاحات جاری کیں۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر خود حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں دے دی تھی۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ احد پہاڑ پر تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان (رضی اللہ عنہم) تھے۔ پہاڑ ہلنے لگا تو حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنا قدم مبارک مارا اور فرمایا:
اثبت احد، فما علیک الا نبی او صدیق او شھیدان۔ (صحیح البخاری، کتاب فضائل الصحابۃ)
اے احد ٹھہر جا، تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔
چھبیس ذی الحج تئیس ہجری کو آپ رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ شدید زخمی ہو گئے۔ چار دن تک موت و حیات کی کشمکش میں رہے۔ جب آخری وقت آیا تو آپ نے اپنے بیٹے حضرت عبد اللہ کو کہا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ عمر آپ کو سلام کہتا ہے۔ سلام کے بعد عرض کرنا، اے ام المؤمنین عمر بن الخطاب آپ سے اجازت مانگتا ہے کہ اسے اپنے دونوں دوستوں کے پاس قبر کی جگہ مل جائے۔ حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا تک جب یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا، وہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی ہوئی تھی لیکن آج میں عمر کو اپنے آپ پر ترجیح دیتی ہوں کہ انہیں اس جگہ دفن کیا جائے۔
جب حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو آپ نے پوچھا کہ کہو کیا جواب لے کر آئے ہو۔ انہوں نے عرض کیا، آپ کی خواہش کے مطابق جواب ملا ہے۔ آپ نے یہ سن کر الحمد للہ کہا اور فرمایا مجھے اس سے زیادہ کسی اور بات کی خواہش نہ تھی۔ پھر فرمایا جب میری روح نکل جائے تو ایک بار پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگنا۔ اگر وہ بخوشی اجازت دے دیں تو مجھے حجرہ اقدس میں دفن کر دینا اور اگر وہ اجازت نہ دیں تو مجھے مسلمانوں کے عام قبرستان میں لے جا کر دفن کرنا۔
یکم محرم الحرام چوبیس ہجری کو آپ نے اپنے بیتے سے کہا کہ میری پیشانی زمین سے لگا دو۔ یعنی سجدے کی سی حالت بنا دو۔ جب آپ کے بیٹے نے آپ کو سجدہ کروایا تو اسی حالت میں آپ کی روح پرواز کر گئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور آپ حجرہ اقدس میں دفن ہوئے۔