چالیس احادیث نبوی ﷺ
بسم الله الرحمن الرحيم
اللهم صل علي سيدنا و مولانا محمد و علي آله و صحبه و بارك و سلم
اللهم صل علي سيدنا و مولانا محمد و علي آله و صحبه و بارك و سلم
چالیس احادیث حفظ کرنے کی بہت فضیلت ہے۔ جیسا کہ ہم اکثر علماء سے سنتے بھی رہتے ہیں۔ اسی لئے کئی آئمہ کرام نے اربعین (چالیس احادیث) کی مختصر کتابیں تالیف فرمائی ہیں۔
اس صفحہ میں اپنے قارئین کے لئے چالیس احادیث عربی متن، اردو ترجمہ اور حوالہ کے ساتھ پیش ہیں۔ کوشش رہے گی کہ ان احادیث کا انگلش ترجمہ بھی پیش کیا جائے۔ ان شاء اللہ تعالی۔
آپ احباب سے عرض ہے کہ ان کو حفظ کر لیں۔ اپنے احباب تک پہنچائیں۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو دونوں جہاں کی رحمتیں، برکتیں، عزتیں، نعمتیں اور کامیابیاں عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
____________________
حدیث نمبر: 1
حدیث نمبر: 1
عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَالْحَلاَّقُ يَحْلِقهُ وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَة إِلاَّ فِى يَدِ رَجُلٍ.
صحیح مسلم ، کتاب الفضائل ، باب قُرْبِ النَّبِىِّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ مِنَ النَّاسِ وَتَبَرُّكِهِمْ بِه۔ رقم الحدیث : 6188
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تحقیق میں نے پیارے آقا ﷺ کو دیکھا کہ حجام آپ ﷺ بال مبارک کاٹ رہا تھا اور آپ ﷺ کے صحابہ آپ ﷺ کے ارد گرد طواف کر رہے تھے ( یعنی اس طرح گھوم رہے تھے جیسے طواف کرتے ہیں ) اور ان کی کوشش تھی کہ آپ ﷺ کا ہر بال مبارک کسی نہ کسی صحابی کے ہاتھ میں آجائے۔ ( اور زمین پر نہ گرنے پائے)۔
____________________
حدیث نمبر: 2
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله ﷺ: الإِيْمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا: قَوْلُ لَا إِلَهَ اِلَّا اللهُ، وَأَدْنَاهَا: إِمَاطَةُ الْأَذَي عَنِ الطَّرِيْقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيْمَانِ.
متفق علیہ
حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں جن میں سب سے افضل لا الہ الا اللہ (یعنی وحدانیتِ الٰہی) کا اقرار کرنا ہے اور ان میں سب سے نچلا درجہ کسی تکلیف دہ چیز کا راستے سے دور کر دینا ہے، اور حیاء بھی ایمان کی ایک (اہم) شاخ ہے۔
____________________
حدیث نمبر: 3
عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِيْهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الإِيْمَانِ: (وفي رواية: حَلَاوَةَ الإِسْلَامِ) أَن يَکُوْنَ اللهُ وَرَسُوْلُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَ أَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا ِللهِ، وَ أَنْ يَکْرَهَ أَنْ يَعُوْدَ فِي الْکُفْرِ کَمَا يَکْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ.
متفق علیہ
حضرت انس رضي الله عنه روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص میں تین خصلتیں ہوں گی وہ ایمان کی مٹھاس (اور ایک روایت میں ہے کہ اسلام کی مٹھاس) کو پالے گا: اللہ عزوجل اور اس کا رسول ﷺ اسے باقی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں، جس شخص سے بھی اسے محبت ہو وہ محض اللہ عزوجل کی وجہ سے ہو، کفر سے نجات پانے کے بعد دوبارہ (حالتِ) کفر میں لوٹنے کو وہ اسی طرح ناپسند کرتا جیسے وہ خود کو آگ میں پھینکا جانا ناپسند کرتا ہو۔
____________________
حدیث نمبر: 4
عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّي أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ.
متفق علیہ
حضرت انس رضي الله عنه سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اُس کے والد (یعنی والدین)، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں۔
____________________
حدیث نمبر: 5
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ أَحَبَّ ِللهِ، وَأَبْغَضً ِللهِ، وَأَعْطَى ِللهِ، وَمَنَعَ ِللهِ، فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الإِيْمَانَ.
سنن ابی داؤد
حضرت ابو امامہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے لئے محبت کی، اللہ تعالیٰ کے لئے عداوت رکھی، اللہ تعالیٰ کے لئے دیا اور اللہ تعالیٰ کے لئے دینے سے ہاتھ روک لیا پس اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا ہے۔
____________________
حدیث نمبر: 6
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِکٍ الْأَنْصَارِيِّ رضي الله عنه أَنَّهُ مَرَّ بِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ، فَقَالَ لَهُ: کَيْفَ أْصْبَحْتَ يَا حَارِثُ، قَالَ: أَصْبَحْتُ مُؤْمِنًا حَقًّا. فَقَالَ: انْظُرْ مَا تَقُوْلُ، فَإِنَّ لِکُلِّ شَيءٍ حَقِيْقَةٌ، فَمَا حَقِيْقَةُ إِيْمَانِکَ؟ فَقَالَ: عَزَفَتْ نَفْسِي عَنِ الدُّنْيَا وَأَسْهَرْتُ لِذَالِکَ لَيْلِي وَاظْمَأَنَّ نَهَارِي، وَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَي عَرْشِ رَبِّي بَارِزًا (وفي رواية: قَالَ عَزَفَتْ نَفْسِي عَنِ الدُّنْيَا وَأَسْهَرْتُ لَيْلِي وَاظْمَأْتُ نَهَارِيِ وَکَأَنِّي أَنْظُرُ عَرْشَ رَبِّي بَارِزًا) وَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَي أَهْلِ الْجَنَّةِ يَتَزَاوَرُوْنَ فِيْهَا، وَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَي أَهْلِ النَّارِ يَتَضَاغُوْنَ فِيْهَا. قَالَ: يَا حَاِرثُ، عَرَفْتَ فَالْزَمْ، ثَلَاثًا.
طبرانی، المعجم الکبیر۔ حدیث نمبر 3367
حضرت حارث بن مالک انصاری رضي الله عنه سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے انہیں فرمایا: اے حارث! تو نے کیسے صبح کی؟ انہوں نے عرض کیا: میں نے سچے مومن کی طرح (یعنی حقیقت ایمان کے ساتھ) صبح کی، حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یقینا ہر ایک شے کی کوئی نہ کوئی حقیقت ہوتی ہے، سو تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے؟ عرض کیا: (یا رسول اللہ!) میرا نفس دنیا سے بے رغبت ہو گیا ہے اور اسی وجہ سے اپنی راتوں میں بیدار اور دن میں (دیدارِ الٰہی کی طلب میں) پیاسا رہتا ہوں اور حالت یہ ہے گویا میں اپنے رب کے عرش کو سامنے ظاہر دیکھ رہا ہوں اور اہل جنت کو ایک دوسرے سے ملتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور دوزخیوں کو تکلیف سے چلاتے دیکھ رہا ہوں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے حارث! تو نے (حقیقتِ ایمان کو) پہچان لیا، اب (اس سے) چمٹ جا۔ یہ کلمہ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا۔
___________________
حدیث نمبر: 7
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ کَانْ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ.
صحیح البخاری، کتاب: الادب۔
حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اللہ عزوجل پر اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے اپنے ہمسائے کو نہ ستائے، اور جو اللہ عزوجل اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے اپنے مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ عزوجل اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے منہ سے اچھی بات نکالے یا خاموش رہے۔
____________________
حدیث نمبر: 8
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَي خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيْتَاءِ الزَّکَاةِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ.
متفق علیہ
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
____________________
حدیث نمبر: 9
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضي الله عنه يَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ: اتَّقُوا اللهَ رَبَّکُمْ وَصَلُّوْا خَمْسَکُمْ وَصُوْمُوْا شَهْرَکُمْ وَ أَدُّوْا زَکَاةَ أَمْوَالِکُمْ وَ أَطِيْعُوْا ذَا أَمْرِکُمْ تَدْخُلُوْا جَنَّةَ رَبِّکُمْ.
سنن الترمذی، کتاب الجمعۃ
حضرت ابوامامہ رضي الله عنه روایت فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اپنے رب سے ڈرو، اپنی پانچوں نمازیں ادا کرتے رہو اور اپنے مہینے (رمضان) کے روزے رکھا کرو اور اپنے اموال کی زکوٰۃ دیا کرو اور اپنے اولی الامر کی اطاعت کرو تو تم (اس کے صلہ میں) اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔
____________________
حدیث نمبر: 10
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضي الله عنه يَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا أُمَّةَ بَعْدِکُمْ أَلاَ فَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ وَصَلُّوْا خَمْسَکُمْ وَصُوْمُوْا شَهْرَکُمْ وَأَدُّوْا زَکَاةَ أَمْوَالِکُمْ طِيْبَةً بِهَا أَنْفُسِکُمْ وَأَطِيْعُوْا وُلَاةَ أَمْرِکُمْ تَدْخُلُوْا جَنَّةَ رَبِّکُمْ.
معجم الکبیر۔ حدیث نمبر: 7533
حضرت ابوامامہ رضي الله عنه سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! جان لو کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور نہ ہی تمہارے بعد کوئی اور امت ہے۔ خبردار! صرف اپنے رب کی ہی عبادت کرو، اور اپنی پانچ (فرض) نمازیں ادا کرو، اور اپنے ماہ (رمضان) کے روزے رکھو، دلی رضا مندی کے ساتھ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے (عادل) حکمرانوں کی اطاعت کرو، تو تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔
____________________
حدیث نمبر: 11
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: أَوَّلُ مَا يُحَاسَبَ بِه الْعَبْدُ الصَّلَاةُ، فَإِنْ صَلَحَتْ صَلَحَ سَائِرُ عَمَلِهِ، وَ إِنْ فَسَدَتْ فَسَدَ سَائِرُ عَمَلِهِ.
معجم الاوسط۔ حدیث نمبر: 1859
حضرت انس بن مالک رضي الله عنه نے حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: یقیناً پہلی چیز جس کا حساب بندہ سے لیا جائے گا وہ نماز ہے پس اگر نماز درست ہو گی تو بندہ کے جملہ اعمال درست ہوں گے اور اگر نماز درست نہ ہوئی تو دوسرے تمام اعمال بھی درست نہیں ہوں گے۔
____________________
حدیث نمبر: 12
صحیح البخاری۔ کتاب: مواقیت الصلاۃ۔ حدیث نمبر: 504
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضي الله عنه روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا: اللہ تعالیٰ کے ہاں کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے؟ فرمایا: وقت مقررہ پر نماز ادا کرنا۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ فرمایا: والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا.
____________________
حدیث نمبر: 13
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: إِذَا نَسِيَ أَحَدُکُمْ، فَأَکَلَ، أَوْ شَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللهُ وَسَقَاهُ.
صحیح البخاری، کتاب: الصوم، حدیث نمبر: 1831.
حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص بھول جائے اور کھا پی لے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے ہی تو کھلایا اور پلایا ہے۔
____________________
حدیث نمبر: 14
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شركم ".
سنن الترمذی
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سےروایت ہے، فرماتے ہیں: حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم ان کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہتے ہیں، تو کہو: تمہارے شر پر اللہ کی لعنت۔
عن ابي سعيد قال: كان بين خالد بن الوليد، وبين عبد الرحمن بن عوف شيء، فسبه خالد: فقال رسول الله ﷺ: "لا تسبوا احدا من اصحابي، فإن احدكم لو انفق مثل احد ذهبا ما ادرك مد احدهم ولا نصيفه ".
صحيح مسلم، کتاب: فضائل الصحابہ۔ باب: تحریم سب الصحابہ رضی اللہ عنہم
سیدنا ابوسعید رضي الله عنه سے روایت ہے کہ سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف میں کچھ جھگڑا ہوا تو سیدنا خالد رضي الله عنه نے ان کو برا کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مت برا کہو میرے اصحاب میں سے کسی کو اس لیے کہ اگر کو ئی تم میں سے احد پہاڑ کے برابر سونا صرف کرے تو ان کے مد یا آدھے مد کے برابر نہیں ہو سکتا.
عَنْ ثَوْبَانَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَفْضَلُ دِيْنَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِيْنَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ. وَدِيْنَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيْلِ اللهِ. وَدِيْنَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيْلِ اللهِ. قَالَ أَبُوقِلَابًةَ: وَبَدَأَ بِالْعَيَالِ: ثُمَّ قَالَ أَبُوْقِلَابَةَ: وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ صِغَارٍ، يُعِفُّهُمْ أَوْ يَنْفَعُهُمُ اللهُ بِهِ، وَ يُغْنِيهِمْ.
صحیح مسلم۔ کتاب الزکوۃ۔ حدیث نمبر: 994
حضرت ثوبان رضي الله عنه روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بہترین دینار وہ ہے جو کوئی شخص اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، بہترین دینار وہ ہے جو کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی سواری پر خرچ کرتا ہے اور بہترین دینار وہ ہے جو کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔ ابو قلابہ نے کہا: آپ نے گھر والوں پر خرچ سے شروع کیا تھا۔ پھر ابوقلابہ نے کہا: اس شخص سے زیادہ اور کس کا اجر ہوگا جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کے سبب اُن بچوں کو نفع دیتا ہے اور غنی کرتا ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ کَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.
صحیح البخاری، أبواب العمرہ۔ حديث نمبر: 1723
حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے اس گھر (کعبہ) کا حج کیا پس وہ نہ تو عورت کے قریب گیا اور نہ ہی کوئی گناہ کیا تو (تمام گناہوں سے پاک ہو کر) اس طرح واپس لوٹا جیسے اس کی ماں نے اُسے جنم دیا تھا۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اَلْعُمْرَةُ إِلَي الْعُمْرَةِ کَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلاَّ الْجَنَّةُ.
صحیح البخاری، أبواب العمرہ، حدیث نمبر: 1683
حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک کا درمیانی عرصہ گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور (مقبول) کا بدلہ جنت ہی ہے۔
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ أَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ، فَمَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ فَلْيَمُتْ إِنْ شَآءَ يَهُوْدِيًا وَإِنْ شَآءَ نَصْرَانِيًا.
سنن الترمذی، کتاب الحج عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء فی التغلیظ فی ترک الحج۔
حضرت ابو اُمامہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو فریضۂ حج کی ادائیگی میں کوئی ظاہری ضرورت یا کوئی ظالم بادشاہ یا روکنے والی بیماری (یعنی سخت مرض) نہ روکے اور وہ پھر (بھی) حج نہ کرے اور (فریضہ حج کی ادائیگی کے بغیر ہی) مر جائے تو چاہے وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر (اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے)۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اَلْحُجَّاجُ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللهِ. إِنْ دَعَوْهُ أَجَابَهُمْ، وَإِنِ اسْتَغْفَرُوْهُ غَفَرَ لَهُمْ.
وَفِي رِوَايَةٍ: اَلْغَازِيُّ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ.
سنن ابن ماجہ۔ کتاب: المناسک۔ باب: فضل دعاء الحج۔
حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں، وہ اس سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول کرتا ہے اور اگر اس سے بخشش طلب کریں تو انہیں بخش دیتا ہے۔ (ایک روایت میں) جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا (کے الفاظ بھی ہیں)۔
رَوَي أَبُوْحَنِيْفَةَ رضي الله عنه قَالَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہما أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ ﷺ قَالَ: أَعْقَلُ النَّاسِ أَتْرَکُهُمْ لِلدُّنْيَا.
جامع المسانید۔ حدیث نمبر: 199
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ عقل مند وہ ہے جو دنیا (کی محبت) کو سب سے زیادہ چھوڑنے والا ہو۔
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضي الله عنه قَالَ: قِيْلَ: يَا رَسُوْلِ ﷲِ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: جَوْفَ اللَّيْلِ الآخِرِ، وَدُبُرَ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَاتِ.
سنن الترمذی، کتاب: الدعوات عن رسول اللہ ﷺ
حضرت ابو امامہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا گیا: کس وقت کی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: رات کے آخری حصے میں (کی گئی دعا) اور فرض نمازوں کے بعد (کی گئی دعا جلد مقبول ہوتی ہے)۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ ﷺ قَالَ: مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ ﷲُ عَلَيَّ رُوْحِي، حَتَّي أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ.
سنن ابی داؤد، کتاب: المناسک، باب: زیارۃ القبور۔
حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو بیشک ﷲ تعالیٰ نے مجھ پر میری روح لوٹا دی ہوئی ہے (اور میری توجہ اس کی طرف مبذول فرماتا ہے) یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ: إِنَّ مِنْ أَکْمَلِ الْمُؤْمِنِيْنَ إِيْمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ.
سنن الترمذی، کتاب: الایمان عن رسول اللہ ﷺ
حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومنوں میں سے کامل ترین مومن وہ ہے جو بہترین اخلاق کا مالک ہے۔ اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ انتہائی نرم ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ ﷺ: أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِيْنَ إِيْمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُکُمْ خِيَارُکُمْ لِنِسَائِهِمْ.
سنن الترمذی، کتاب: الرضاع عن رسول اللہ ﷺ۔
حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومنوں میں سے کامل ترین ایمان اس کا ہے جو ان میں سے بہترین اخلاق کا مالک ہے اور تم میں سے بہترین اشخاص وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے ہیں۔
عَنْ جَابِرِ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ ﷺ قَالَ: إِنَّ مِنْ أَحَبِّکُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِکُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنَکُمْ أَخْلَاقًا.
سنن الترمذی، کتاب: البر و الصلۃ عن رسول اللہ ﷺ
حضرت جابر رضي الله عنه روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے نزدیک ترین بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں سے اخلاق میں اچھے ہیں۔
عَنْ عَائِشَةَ رضي ﷲ عنها قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ ﷺ يَقُوْلُ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِکُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ.
سنن ابی داؤد، کتاب: الادب، باب: فی حسن الخلق
حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله عنها فرماتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: یقیناً مومن حسنِ اخلاق کے ذریعے دن کو روزہ رکھنے والے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: لَتُنْقَضَنَّ عُرَى الإسْلَامِ عُرْوَةً عُرْوَةً، فَكُلَّمَا انْتَقَضَتْ عُرْوَةٌ، تَشَبَّثَ النَّاسُ بِالَّتِي تَلِيهَا، فَأوَّلُهُنَّ نَقْضاً الْحُكْمُ، وَآخِرُهُنَّ الصَّلاَةُ۔
مسند احمد بن حنبل، حديث نمبر: 22160
حضرت أبو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک ایک کر کے اسلام کی کڑیاں ٹوٹیں گی۔ ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اس سے نچلی (دوسری کڑی کو ) پکڑ لیں گے، ان کڑیوں میں سے سب سے پہلی کڑی نظام (اسلامی نظام، نظامِ سیاست) ہے اور آخری کڑی نماز ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قاَلَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ: يُسَلِّمُ الرَّاکِبُ عَلَي الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَي الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيْلُ عَلَي الْکَثِيرِ.
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے، اور تھوڑے آدمی زیادہ تعداد والوں کو سلام کریں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ ﷺ قَالَ: أَ تَدْرُوْنَ مَا الْغِيْبَةُ؟ قَالُوْا: ﷲُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا يَکْرَهُ. قِيْلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ کَانَ فِي أَخِي مَا أَقُوْلُ؟ قَالَ: إِنْ کَانَ فِيْهِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ. وَإِنْ لَمْ يَکُنْ فِيْهِ، فَقَدْ بَهَتَّهُ.
رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَ التِّرْمِذِيُّ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا: ﷲ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : (غیبت یہ ہے کہ) تم اپنے (مسلمان) بھائی کا اس طرح ذکر کرو کہ جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔ عرض کیا گیا : (یا رسول ﷲ!) اگر وہ بات میرے اس بھائی میں پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں (تو کیا پھر بھی غیبت ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا : اگر وہ بات اس میں ہے جو تم کہہ رہے ہو تو یہی تو غیبت ہے اور اگر (وہ بات) اس میں نہیں تب تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔
عَنْ مُعَاوِيَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ ﷺ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ أَبُوْ دَاوُدَ.
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جسے یہ بات پسند ہو کہ لوگ اس کے لئے بُت کی طرح (احترامًا) کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار رکھے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ ﷺقَالَ: کُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَي. قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ ﷲِ، وَمَنْ يَأْبَي؟ قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَي.
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا: میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کس نے انکار کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔
عَنْ مَالِکٍ رضي الله عنه أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ ﷺ قَالَ: تَرَکْتُ فِيْکُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا: کِتَابَ ﷲِ وَسُنَّةَ نَبِيِهِ.
الموطأ، کتاب: القدر، باب: النهي عن القول بالقدر، 2 / 899، الرقم: 1594
امام مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے یعنی اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اُس کے نبی ﷺ کی سنت۔
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رضي الله عنه قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ ﷲِ! مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ؟ قَالَ: أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَکْسُوْهَا إِذَا اکْتَسَيْتَ أَوِ اکْتَسَبْتَ، وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ.
رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَأَحْمَدُ
حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی پر اس کی بیوی کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب تم پہنو یا کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، اس کے منہ پر نہ مارو، اُس سے برے لفظ نہ کہو اور اسے خود سے الگ نہ کرو مگر گھر کے اندر ہی۔
عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضي ﷲ عنهما عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: رِضَي الرَّبِّ فِي رِضَي الْوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ.
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی ﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ: نے فرمایا: رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ ﷺ: إِنَّکُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِکُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِکُمْ فَأَحْسِنُوْا أَسْمَاءَکُمْ.
أبوداود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في تغيير الأسماء، 4 / 287، الرقم : 4948
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا: تم قیامت کے روز اپنے ناموں اور اپنے باپوں کے ناموں سے پکارے جاؤ گے، لہٰذا اپنے (اور اپنے بچوں کے) نام خوبصورت رکھا کرو۔
عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عُمَرَ رضي ﷲ عنهما قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ ﷺ يَقُوْلُ: أَلَا کُلُّکُمْ رَاعٍ، وَکُلُّکُمْ مَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَتِهِ، الإِمَامُ رَاعٍ، وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَتِه، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَمَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَتِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْؤُوْلَةٌ عَنْ رَعِيَتِهَا، وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِدِهِ وَمَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَتِهِ، قَالَ وَحَسِبْتُ أَنْ قَدْ قَالَ: وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيْهِ وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَتِهِ، وَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَمَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَتِه.
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الجمعة، باب: الجمعة في القري والمدن، 1 / 304، الرقم : 853
حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے: سن لو! تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ حکمران نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ آدمی اپنے گھر بار کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا (یعنی گھر والوں) کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا (یعنی شوہر کے گھر) کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ نوکر اپنے مالک کے مال کا نگران ہے اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ (راوی کہتے ہیں میرے خیال میں یہ بھی فرمایا کہ) آدمی اپنے باپ کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا اور تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا۔
عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّي تَبْلُغَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ وَضَمَّ أَصَابِعَهُ.
رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے دو بیٹیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئیں قیامت کے دن آئے گا تو وہ (شخص) اور میں اس طرح ہوں گے اور اپنی انگلیوں کو ملا دیا۔
عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي ﷲ عنهما أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ ﷺ قَالَ: الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ.
رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ.
حضرت عبد ﷲ بن عمرو بن عاص رضی ﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دنیا سازو سامان کی جگہ ہے اور اس دنیا کا بہترین سرمایہ (و دولت) نیک عورت ہے۔
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضي ﷲ عنها قَالَت: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ ﷺ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ، وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الْجَنَّةَ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.
حضرت ام سلمہ رضی ﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جو عورت اس حالت میں فوت ہوئی کہ اس کا خاوند اس سے راضی تھا، وہ جنت میں داخل ہوگئی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ ﷺ: أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِيْنَ إِيْمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُکُمْ خِيَارُکُمْ لِنِسَائِهِمْ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومنین میں سے کامل مومن وہ ہے جو ان میں سے بہترین اخلاق کا مالک ہے اور تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کے لئے بہترین ہے۔
عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: إِيَاکُمْ وَالْجُلُوْسَ بِالطُّرُقَاتِ. فَقَالُوْا يَا رَسُوْلَ ﷲِ، مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيْهَا، فَقَالَ: إِذْ أَبَيْتُمْ إِلاَّ الْمَجْلِسَ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ. قَالُوْا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيْقِ يَا رَسُوْلَ ﷲِ؟ قَالَ: غَضُّ الْبَصَرِ، وَکَفُّ الْأَذَي، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْکَرِ.
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: راستوں میں بیٹھنے سے بچتے رہنا۔ صحابہ نے عرض کیا: یارسول ﷲ! ہمیں ایسی جگہوں پر بیٹھنے کے سوا چارہ کار نہیں کیونکہ ہم بات چیت کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہارا (راستوں کی) مجالس میں بیٹھنا ضروری ہے تو راستے کا حق ادا کردیا کرو۔ عرض کیا: یا رسول ﷲ! راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نظر نیچی رکھنا، تکلیف دہ چیز کا راستہ سے ہٹا دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کا حکم کرنا اور بری باتوں سے منع کرنا (راستے کا حق ہے)۔
عن ابي قتادة الانصاري، "ان رسول الله ﷺ كان يصلي وهو حامل امامة بنت زينب بنت رسول الله ﷺ، ولابي العاص بن ربيعة بن عبد شمس، فإذا سجد وضعها وإذا قام حملها".
صحیح بخاری
____________________
حدیث نمبر: 15
صحيح مسلم، کتاب: فضائل الصحابہ۔ باب: تحریم سب الصحابہ رضی اللہ عنہم
سیدنا ابوسعید رضي الله عنه سے روایت ہے کہ سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف میں کچھ جھگڑا ہوا تو سیدنا خالد رضي الله عنه نے ان کو برا کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مت برا کہو میرے اصحاب میں سے کسی کو اس لیے کہ اگر کو ئی تم میں سے احد پہاڑ کے برابر سونا صرف کرے تو ان کے مد یا آدھے مد کے برابر نہیں ہو سکتا.
____________________
حدیث نمبر: 16
عَنْ ثَوْبَانَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَفْضَلُ دِيْنَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِيْنَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ. وَدِيْنَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيْلِ اللهِ. وَدِيْنَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيْلِ اللهِ. قَالَ أَبُوقِلَابًةَ: وَبَدَأَ بِالْعَيَالِ: ثُمَّ قَالَ أَبُوْقِلَابَةَ: وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ صِغَارٍ، يُعِفُّهُمْ أَوْ يَنْفَعُهُمُ اللهُ بِهِ، وَ يُغْنِيهِمْ.
صحیح مسلم۔ کتاب الزکوۃ۔ حدیث نمبر: 994
حضرت ثوبان رضي الله عنه روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بہترین دینار وہ ہے جو کوئی شخص اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، بہترین دینار وہ ہے جو کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی سواری پر خرچ کرتا ہے اور بہترین دینار وہ ہے جو کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔ ابو قلابہ نے کہا: آپ نے گھر والوں پر خرچ سے شروع کیا تھا۔ پھر ابوقلابہ نے کہا: اس شخص سے زیادہ اور کس کا اجر ہوگا جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کے سبب اُن بچوں کو نفع دیتا ہے اور غنی کرتا ہے۔
____________________
حدیث نمبر: 17
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ کَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.
صحیح البخاری، أبواب العمرہ۔ حديث نمبر: 1723
حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے اس گھر (کعبہ) کا حج کیا پس وہ نہ تو عورت کے قریب گیا اور نہ ہی کوئی گناہ کیا تو (تمام گناہوں سے پاک ہو کر) اس طرح واپس لوٹا جیسے اس کی ماں نے اُسے جنم دیا تھا۔
____________________
حدیث نمبر: 18
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اَلْعُمْرَةُ إِلَي الْعُمْرَةِ کَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلاَّ الْجَنَّةُ.
صحیح البخاری، أبواب العمرہ، حدیث نمبر: 1683
حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک کا درمیانی عرصہ گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور (مقبول) کا بدلہ جنت ہی ہے۔
____________________
حدیث نمبر: 19
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ أَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ، فَمَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ فَلْيَمُتْ إِنْ شَآءَ يَهُوْدِيًا وَإِنْ شَآءَ نَصْرَانِيًا.
سنن الترمذی، کتاب الحج عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء فی التغلیظ فی ترک الحج۔
حضرت ابو اُمامہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو فریضۂ حج کی ادائیگی میں کوئی ظاہری ضرورت یا کوئی ظالم بادشاہ یا روکنے والی بیماری (یعنی سخت مرض) نہ روکے اور وہ پھر (بھی) حج نہ کرے اور (فریضہ حج کی ادائیگی کے بغیر ہی) مر جائے تو چاہے وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر (اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے)۔
____________________
حدیث نمبر: 20
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اَلْحُجَّاجُ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللهِ. إِنْ دَعَوْهُ أَجَابَهُمْ، وَإِنِ اسْتَغْفَرُوْهُ غَفَرَ لَهُمْ.
وَفِي رِوَايَةٍ: اَلْغَازِيُّ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ.
سنن ابن ماجہ۔ کتاب: المناسک۔ باب: فضل دعاء الحج۔
حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں، وہ اس سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول کرتا ہے اور اگر اس سے بخشش طلب کریں تو انہیں بخش دیتا ہے۔ (ایک روایت میں) جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا (کے الفاظ بھی ہیں)۔
____________________
حدیث نمبر: 21
رَوَي أَبُوْحَنِيْفَةَ رضي الله عنه قَالَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہما أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ ﷺ قَالَ: أَعْقَلُ النَّاسِ أَتْرَکُهُمْ لِلدُّنْيَا.
جامع المسانید۔ حدیث نمبر: 199
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ عقل مند وہ ہے جو دنیا (کی محبت) کو سب سے زیادہ چھوڑنے والا ہو۔
____________________
حدیث نمبر: 22
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضي الله عنه قَالَ: قِيْلَ: يَا رَسُوْلِ ﷲِ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: جَوْفَ اللَّيْلِ الآخِرِ، وَدُبُرَ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَاتِ.
سنن الترمذی، کتاب: الدعوات عن رسول اللہ ﷺ
حضرت ابو امامہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا گیا: کس وقت کی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: رات کے آخری حصے میں (کی گئی دعا) اور فرض نمازوں کے بعد (کی گئی دعا جلد مقبول ہوتی ہے)۔
____________________
حدیث نمبر: 23
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ ﷺ قَالَ: مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ ﷲُ عَلَيَّ رُوْحِي، حَتَّي أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ.
سنن ابی داؤد، کتاب: المناسک، باب: زیارۃ القبور۔
حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو بیشک ﷲ تعالیٰ نے مجھ پر میری روح لوٹا دی ہوئی ہے (اور میری توجہ اس کی طرف مبذول فرماتا ہے) یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔
____________________
حدیث نمبر: 24
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ: إِنَّ مِنْ أَکْمَلِ الْمُؤْمِنِيْنَ إِيْمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ.
سنن الترمذی، کتاب: الایمان عن رسول اللہ ﷺ
حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومنوں میں سے کامل ترین مومن وہ ہے جو بہترین اخلاق کا مالک ہے۔ اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ انتہائی نرم ہے۔
____________________
حدیث نمبر: 25
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ ﷺ: أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِيْنَ إِيْمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُکُمْ خِيَارُکُمْ لِنِسَائِهِمْ.
سنن الترمذی، کتاب: الرضاع عن رسول اللہ ﷺ۔
حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومنوں میں سے کامل ترین ایمان اس کا ہے جو ان میں سے بہترین اخلاق کا مالک ہے اور تم میں سے بہترین اشخاص وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے ہیں۔
____________________
حدیث نمبر: 26
عَنْ جَابِرِ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ ﷺ قَالَ: إِنَّ مِنْ أَحَبِّکُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِکُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنَکُمْ أَخْلَاقًا.
سنن الترمذی، کتاب: البر و الصلۃ عن رسول اللہ ﷺ
حضرت جابر رضي الله عنه روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے نزدیک ترین بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں سے اخلاق میں اچھے ہیں۔
____________________
حدیث نمبر: 27
عَنْ عَائِشَةَ رضي ﷲ عنها قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ ﷺ يَقُوْلُ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِکُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ.
سنن ابی داؤد، کتاب: الادب، باب: فی حسن الخلق
حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله عنها فرماتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: یقیناً مومن حسنِ اخلاق کے ذریعے دن کو روزہ رکھنے والے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔
____________________
حدیث نمبر: 28
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: لَتُنْقَضَنَّ عُرَى الإسْلَامِ عُرْوَةً عُرْوَةً، فَكُلَّمَا انْتَقَضَتْ عُرْوَةٌ، تَشَبَّثَ النَّاسُ بِالَّتِي تَلِيهَا، فَأوَّلُهُنَّ نَقْضاً الْحُكْمُ، وَآخِرُهُنَّ الصَّلاَةُ۔
مسند احمد بن حنبل، حديث نمبر: 22160
حضرت أبو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک ایک کر کے اسلام کی کڑیاں ٹوٹیں گی۔ ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اس سے نچلی (دوسری کڑی کو ) پکڑ لیں گے، ان کڑیوں میں سے سب سے پہلی کڑی نظام (اسلامی نظام، نظامِ سیاست) ہے اور آخری کڑی نماز ہے۔
____________________
حدیث نمبر: 29
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قاَلَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ: يُسَلِّمُ الرَّاکِبُ عَلَي الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَي الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيْلُ عَلَي الْکَثِيرِ.
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے، اور تھوڑے آدمی زیادہ تعداد والوں کو سلام کریں۔
____________________
حدیث نمبر: 30
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ ﷺ قَالَ: أَ تَدْرُوْنَ مَا الْغِيْبَةُ؟ قَالُوْا: ﷲُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا يَکْرَهُ. قِيْلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ کَانَ فِي أَخِي مَا أَقُوْلُ؟ قَالَ: إِنْ کَانَ فِيْهِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ. وَإِنْ لَمْ يَکُنْ فِيْهِ، فَقَدْ بَهَتَّهُ.
رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَ التِّرْمِذِيُّ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا: ﷲ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : (غیبت یہ ہے کہ) تم اپنے (مسلمان) بھائی کا اس طرح ذکر کرو کہ جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔ عرض کیا گیا : (یا رسول ﷲ!) اگر وہ بات میرے اس بھائی میں پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں (تو کیا پھر بھی غیبت ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا : اگر وہ بات اس میں ہے جو تم کہہ رہے ہو تو یہی تو غیبت ہے اور اگر (وہ بات) اس میں نہیں تب تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔
____________________
حدیث نمبر: 31
عَنْ مُعَاوِيَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ ﷺ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ أَبُوْ دَاوُدَ.
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جسے یہ بات پسند ہو کہ لوگ اس کے لئے بُت کی طرح (احترامًا) کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار رکھے۔
____________________
حدیث نمبر: 32
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ ﷺقَالَ: کُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَي. قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ ﷲِ، وَمَنْ يَأْبَي؟ قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَي.
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا: میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کس نے انکار کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔
____________________
حدیث نمبر: 33
عَنْ مَالِکٍ رضي الله عنه أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ ﷺ قَالَ: تَرَکْتُ فِيْکُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا: کِتَابَ ﷲِ وَسُنَّةَ نَبِيِهِ.
الموطأ، کتاب: القدر، باب: النهي عن القول بالقدر، 2 / 899، الرقم: 1594
امام مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے یعنی اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اُس کے نبی ﷺ کی سنت۔
____________________
حدیث نمبر: 34
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رضي الله عنه قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ ﷲِ! مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ؟ قَالَ: أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَکْسُوْهَا إِذَا اکْتَسَيْتَ أَوِ اکْتَسَبْتَ، وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ.
رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَأَحْمَدُ
حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی پر اس کی بیوی کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب تم پہنو یا کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، اس کے منہ پر نہ مارو، اُس سے برے لفظ نہ کہو اور اسے خود سے الگ نہ کرو مگر گھر کے اندر ہی۔
____________________
حدیث نمبر: 35
عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضي ﷲ عنهما عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: رِضَي الرَّبِّ فِي رِضَي الْوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ.
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی ﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ: نے فرمایا: رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔
____________________
حدیث نمبر: 36
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ ﷺ: إِنَّکُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِکُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِکُمْ فَأَحْسِنُوْا أَسْمَاءَکُمْ.
أبوداود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في تغيير الأسماء، 4 / 287، الرقم : 4948
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا: تم قیامت کے روز اپنے ناموں اور اپنے باپوں کے ناموں سے پکارے جاؤ گے، لہٰذا اپنے (اور اپنے بچوں کے) نام خوبصورت رکھا کرو۔
____________________
حدیث نمبر: 37
عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عُمَرَ رضي ﷲ عنهما قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ ﷺ يَقُوْلُ: أَلَا کُلُّکُمْ رَاعٍ، وَکُلُّکُمْ مَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَتِهِ، الإِمَامُ رَاعٍ، وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَتِه، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَمَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَتِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْؤُوْلَةٌ عَنْ رَعِيَتِهَا، وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِدِهِ وَمَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَتِهِ، قَالَ وَحَسِبْتُ أَنْ قَدْ قَالَ: وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيْهِ وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَتِهِ، وَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَمَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَتِه.
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الجمعة، باب: الجمعة في القري والمدن، 1 / 304، الرقم : 853
حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے: سن لو! تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ حکمران نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ آدمی اپنے گھر بار کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا (یعنی گھر والوں) کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا (یعنی شوہر کے گھر) کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ نوکر اپنے مالک کے مال کا نگران ہے اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ (راوی کہتے ہیں میرے خیال میں یہ بھی فرمایا کہ) آدمی اپنے باپ کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا اور تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا۔
____________________
حدیث نمبر: 38
عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّي تَبْلُغَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ وَضَمَّ أَصَابِعَهُ.
رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے دو بیٹیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئیں قیامت کے دن آئے گا تو وہ (شخص) اور میں اس طرح ہوں گے اور اپنی انگلیوں کو ملا دیا۔
____________________
حدیث نمبر: 39
عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي ﷲ عنهما أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ ﷺ قَالَ: الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ.
رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ.
حضرت عبد ﷲ بن عمرو بن عاص رضی ﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دنیا سازو سامان کی جگہ ہے اور اس دنیا کا بہترین سرمایہ (و دولت) نیک عورت ہے۔
____________________
حدیث نمبر: 40
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضي ﷲ عنها قَالَت: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ ﷺ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ، وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الْجَنَّةَ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.
حضرت ام سلمہ رضی ﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جو عورت اس حالت میں فوت ہوئی کہ اس کا خاوند اس سے راضی تھا، وہ جنت میں داخل ہوگئی۔
____________________
حدیث نمبر: 41
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ ﷺ: أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِيْنَ إِيْمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُکُمْ خِيَارُکُمْ لِنِسَائِهِمْ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومنین میں سے کامل مومن وہ ہے جو ان میں سے بہترین اخلاق کا مالک ہے اور تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کے لئے بہترین ہے۔
____________________
حدیث نمبر: 42
عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: إِيَاکُمْ وَالْجُلُوْسَ بِالطُّرُقَاتِ. فَقَالُوْا يَا رَسُوْلَ ﷲِ، مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيْهَا، فَقَالَ: إِذْ أَبَيْتُمْ إِلاَّ الْمَجْلِسَ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ. قَالُوْا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيْقِ يَا رَسُوْلَ ﷲِ؟ قَالَ: غَضُّ الْبَصَرِ، وَکَفُّ الْأَذَي، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْکَرِ.
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: راستوں میں بیٹھنے سے بچتے رہنا۔ صحابہ نے عرض کیا: یارسول ﷲ! ہمیں ایسی جگہوں پر بیٹھنے کے سوا چارہ کار نہیں کیونکہ ہم بات چیت کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہارا (راستوں کی) مجالس میں بیٹھنا ضروری ہے تو راستے کا حق ادا کردیا کرو۔ عرض کیا: یا رسول ﷲ! راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نظر نیچی رکھنا، تکلیف دہ چیز کا راستہ سے ہٹا دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کا حکم کرنا اور بری باتوں سے منع کرنا (راستے کا حق ہے)۔
____________________
حدیث نمبر: 43
عن ابي قتادة الانصاري، "ان رسول الله ﷺ كان يصلي وهو حامل امامة بنت زينب بنت رسول الله ﷺ، ولابي العاص بن ربيعة بن عبد شمس، فإذا سجد وضعها وإذا قام حملها".
صحیح بخاری
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ (اپنی نواسی) امامہ بنت زینب بنت رسول اللہ ﷺ کو (بعض اوقات) نماز پڑھتے وقت اٹھائے ہوتے تھے۔ ابوالعاص بن ربیعہ بن عبدشمس کی حدیث میں ہے کہ سجدہ میں جاتے تو اتار دیتے اور جب قیام فرماتے تو اٹھا لیتے۔